الزمر 39:8 ۞ واذا مس الانسان ضر دعا ربه منيبا اليه ثم اذا خوله نعمة منه نسي ما كان يدعو اليه من قبل وجعل لله اندادا ليضل عن سبيله قل تمتع بكفرك قليلا انك من اصحاب النار ٨
وَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
ضُرٌّ
دَعَا
رَبَّهٗ
مُنِیْبًا
اِلَیْهِ
ثُمَّ
اِذَا
خَوَّلَهٗ
نِعْمَةً
مِّنْهُ
نَسِیَ
مَا
كَانَ
یَدْعُوْۤا
اِلَیْهِ
مِنْ
قَبْلُ
وَجَعَلَ
لِلّٰهِ
اَنْدَادًا
لِّیُضِلَّ
عَنْ
سَبِیْلِهٖ ؕ
قُلْ
تَمَتَّعْ
بِكُفْرِكَ
قَلِیْلًا ۖۗ
اِنَّكَ
مِنْ
اَصْحٰبِ
النَّارِ
۟
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] ” اگر تم اور روئے زمین ک
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ