النمل 27:46 قال يا قوم لم تستعجلون بالسيية قبل الحسنة لولا تستغفرون الله لعلكم ترحمون ٤٦
قَالَ
یٰقَوْمِ
لِمَ
تَسْتَعْجِلُوْنَ
بِالسَّیِّئَةِ
قَبْلَ
الْحَسَنَةِ ۚ
لَوْلَا
تَسْتَغْفِرُوْنَ
اللّٰهَ
لَعَلَّكُمْ
تُرْحَمُوْنَ
۟
صالحؑ نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟1 کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شایک کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح علیہ السلام کو رسول اللہ مان
صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭…
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئ