وَاَوْرَثْنَا
الْقَوْمَ
الَّذِیْنَ
كَانُوْا
یُسْتَضْعَفُوْنَ
مَشَارِقَ
الْاَرْضِ
وَمَغَارِبَهَا
الَّتِیْ
بٰرَكْنَا
فِیْهَا ؕ
وَتَمَّتْ
كَلِمَتُ
رَبِّكَ
الْحُسْنٰی
عَلٰی
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ ۙ۬
بِمَا
صَبَرُوْا ؕ
وَدَمَّرْنَا
مَا
كَانَ
یَصْنَعُ
فِرْعَوْنُ
وَقَوْمُهٗ
وَمَا
كَانُوْا
یَعْرِشُوْنَ
۟
اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔1 اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدہٴِ خیر پورا ہوکیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انجام سرکشی ٭٭…
جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔
بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا
انجام سرکشی ٭٭…
جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے