وَلَمَّا
وَقَعَ
عَلَیْهِمُ
الرِّجْزُ
قَالُوْا
یٰمُوْسَی
ادْعُ
لَنَا
رَبَّكَ
بِمَا
عَهِدَ
عِنْدَكَ ۚ
لَىِٕنْ
كَشَفْتَ
عَنَّا
الرِّجْزَ
لَنُؤْمِنَنَّ
لَكَ
وَلَنُرْسِلَنَّ
مَعَكَ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
۟ۚ
جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭…
ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گ
سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭…
ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی