فَاِذَا
جَآءَتْهُمُ
الْحَسَنَةُ
قَالُوْا
لَنَا
هٰذِهٖ ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
یَّطَّیَّرُوْا
بِمُوْسٰی
وَمَنْ
مَّعَهٗ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّمَا
طٰٓىِٕرُهُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اعمال کا خمیازہ ٭٭…
اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی
اعمال کا خمیازہ ٭٭…
اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درخت