الزمر 39:36 اليس الله بكاف عبده ويخوفونك بالذين من دونه ومن يضلل الله فما له من هاد ٣٦
اَلَیْسَ
اللّٰهُ
بِكَافٍ
عَبْدَهٗ ؕ
وَیُخَوِّفُوْنَكَ
بِالَّذِیْنَ
مِنْ
دُوْنِهٖ ؕ
وَمَنْ
یُّضْلِلِ
اللّٰهُ
فَمَا
لَهٗ
مِنْ
هَادٍ
۟ۚ
کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟ اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ (ان کے معبود) ہیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭…
ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے ٭٭…
ایک قرأت میں «اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عِبَادَهُ» ہے، یعنی ” اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے “۔ اسی پر ہ