يوسف 12:72 قالوا نفقد صواع الملك ولمن جاء به حمل بعير وانا به زعيم ٧٢
قَالُوْا
نَفْقِدُ
صُوَاعَ
الْمَلِكِ
وَلِمَنْ
جَآءَ
بِهٖ
حِمْلُ
بَعِیْرٍ
وَّاَنَا
بِهٖ
زَعِیْمٌ
۟
” سرکاری ملازموں نے کہا “ بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا ”۔ ( اور ان کے جمعدار نے کہا) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے ، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں ”۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویس
باب…
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کر دیا کہ چاندی کا شاہی