يوسف 12:33 قال رب السجن احب الي مما يدعونني اليه والا تصرف عني كيدهن اصب اليهن واكن من الجاهلين ٣٣
قَالَ
رَبِّ
السِّجْنُ
اَحَبُّ
اِلَیَّ
مِمَّا
یَدْعُوْنَنِیْۤ
اِلَیْهِ ۚ
وَاِلَّا
تَصْرِفْ
عَنِّیْ
كَیْدَهُنَّ
اَصْبُ
اِلَیْهِنَّ
وَاَكُنْ
مِّنَ
الْجٰهِلِیْنَ
۟
یوسف نے کہا " اے میرے رب ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ مجھ سے چاہتی ہیں اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭…
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گزری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوت
داستان عشق اور حسینان مصر ٭٭…
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی