طه 20:88 فاخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هاذا الاهكم والاه موسى فنسي ٨٨
فَاَخْرَجَ
لَهُمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ
فَقَالُوْا
هٰذَاۤ
اِلٰهُكُمْ
وَاِلٰهُ
مُوْسٰی ۬
فَنَسِیَ
۟ؕ
ور ان کے لئے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکار اٹھے ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا ، موسیٰ اسے بھول گیا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے، موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو، یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں او
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی