طه 20:61 قال لهم موسى ويلكم لا تفتروا على الله كذبا فيسحتكم بعذاب وقد خاب من افترى ٦١
قَالَ
لَهُمْ
مُّوْسٰی
وَیْلَكُمْ
لَا
تَفْتَرُوْا
عَلَی
اللّٰهِ
كَذِبًا
فَیُسْحِتَكُمْ
بِعَذَابٍ ۚ
وَقَدْ
خَابَ
مَنِ
افْتَرٰی
۟
” موسیٰ نے (عین موقع پر گروہ مقابل کو مخاطب کر کے ) کہا ” شامت کے مارو ، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر ، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭…
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت ت
مقابلہ اور نتیجہ ٭٭…
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے