فاطر 35:9 والله الذي ارسل الرياح فتثير سحابا فسقناه الى بلد ميت فاحيينا به الارض بعد موتها كذالك النشور ٩
وَاللّٰهُ
الَّذِیْۤ
اَرْسَلَ
الرِّیٰحَ
فَتُثِیْرُ
سَحَابًا
فَسُقْنٰهُ
اِلٰی
بَلَدٍ
مَّیِّتٍ
فَاَحْیَیْنَا
بِهِ
الْاَرْضَ
بَعْدَ
مَوْتِهَا ؕ
كَذٰلِكَ
النُّشُوْرُ
۟
وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر ہم اسے ایک اجاڑ علاقے کی طرف کے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے اسی زمین کو جلا اٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی۔ مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا “۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موت کے بعد زندگی ٭٭…
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ الحج وغیرہ میں ہے۔ [22-الحج:5] بندوں کے لیے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی تروتازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن ب
موت کے بعد زندگی ٭٭…
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ الحج وغیرہ میں ہے۔ [22-الحج:5]