اِنْ
تَكْفُرُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
غَنِیٌّ
عَنْكُمْ ۫
وَلَا
یَرْضٰی
لِعِبَادِهِ
الْكُفْرَ ۚ
وَاِنْ
تَشْكُرُوْا
یَرْضَهُ
لَكُمْ ؕ
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَةٌ
وِّزْرَ
اُخْرٰی ؕ
ثُمَّ
اِلٰی
رَبِّكُمْ
مَّرْجِعُكُمْ
فَیُنَبِّئُكُمْ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ ؕ
اِنَّهٗ
عَلِیْمٌۢ
بِذَاتِ
الصُّدُوْرِ
۟
اگر تم انکار کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے انکار کو پسند نہیں کرتااور اگر تم شکر کرو تو وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کابوجھ نہ اُٹھائے گا پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھاری واپسی ہےتو وہ تم کوبتادے گا جوتم کرتے تھے بے شک وہ دلوں کی بات کو جاننے والا ہے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] ” اگر تم اور روئے زمین ک
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ