اَمَّنْ
هُوَ
قَانِتٌ
اٰنَآءَ
الَّیْلِ
سَاجِدًا
وَّقَآىِٕمًا
یَّحْذَرُ
الْاٰخِرَةَ
وَیَرْجُوْا
رَحْمَةَ
رَبِّهٖ ؕ
قُلْ
هَلْ
یَسْتَوِی
الَّذِیْنَ
یَعْلَمُوْنَ
وَالَّذِیْنَ
لَا
یَعْلَمُوْنَ ؕ
اِنَّمَا
یَتَذَكَّرُ
اُولُوا
الْاَلْبَابِ
۟۠
(کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی)جو مطیعِ فرمان ہے ، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے ربّ کی رحمت سے اُمید لگاتا ہے؟ اِن سے پوچھو ، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ 1 نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرک اور موحد برابر نہیں ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» [3-آل عمران:113] ، یعنی ” سب کے سب برابر کے نہیں، اہل کتاب میں وہ جماعت بھی ہے
مشرک اور موحد برابر نہیں ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِ