وَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
ضُرٌّ
دَعَا
رَبَّهٗ
مُنِیْبًا
اِلَیْهِ
ثُمَّ
اِذَا
خَوَّلَهٗ
نِعْمَةً
مِّنْهُ
نَسِیَ
مَا
كَانَ
یَدْعُوْۤا
اِلَیْهِ
مِنْ
قَبْلُ
وَجَعَلَ
لِلّٰهِ
اَنْدَادًا
لِّیُضِلَّ
عَنْ
سَبِیْلِهٖ ؕ
قُلْ
تَمَتَّعْ
بِكُفْرِكَ
قَلِیْلًا ۖۗ
اِنَّكَ
مِنْ
اَصْحٰبِ
النَّارِ
۟
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ عطا کردیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے اور وہ اللہ کے ّمد ِمقابل ٹھہرا لیتا ہے تاکہ بہکائے لوگوں کو اس کے راستے سے اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر یقینا تم آگ والوں میں سے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» [14-إبراهيم:8] ” اگر تم اور روئے زمین ک
ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بے نیاز ہے “۔ موسیٰ علیہ السلام کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ