وَاِنْ
اَحَدٌ
مِّنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
اسْتَجَارَكَ
فَاَجِرْهُ
حَتّٰی
یَسْمَعَ
كَلٰمَ
اللّٰهِ
ثُمَّ
اَبْلِغْهُ
مَاْمَنَهٗ ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
قَوْمٌ
لَّا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠
اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پنا ہ دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچادو یہ اس ليے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن مار دو ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کر دیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے، آپ صلی اللہ علیہ وسل
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن مار دو ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد