كَیْفَ
یَكُوْنُ
لِلْمُشْرِكِیْنَ
عَهْدٌ
عِنْدَ
اللّٰهِ
وَعِنْدَ
رَسُوْلِهٖۤ
اِلَّا
الَّذِیْنَ
عٰهَدْتُّمْ
عِنْدَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ ۚ
فَمَا
اسْتَقَامُوْا
لَكُمْ
فَاسْتَقِیْمُوْا
لَهُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُتَّقِیْنَ
۟
اِن مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا، 1 تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوںکو پسند کرتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پابندی عہد کی شرائط ٭٭…
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے والے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔
یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی، ماہ ذی
پابندی عہد کی شرائط ٭٭…
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے