وَمَا
كَانَ
اسْتِغْفَارُ
اِبْرٰهِیْمَ
لِاَبِیْهِ
اِلَّا
عَنْ
مَّوْعِدَةٍ
وَّعَدَهَاۤ
اِیَّاهُ ۚ
فَلَمَّا
تَبَیَّنَ
لَهٗۤ
اَنَّهٗ
عَدُوٌّ
لِّلّٰهِ
تَبَرَّاَ
مِنْهُ ؕ
اِنَّ
اِبْرٰهِیْمَ
لَاَوَّاهٌ
حَلِیْمٌ
۟
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے ليے مغفرت کی دعا مانگنا صرف اس وعدہ کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کرلیاتھا پھر جب اس پر کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہوگیا بے شک ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ