مَا
كَانَ
لِلنَّبِیِّ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اَنْ
یَّسْتَغْفِرُوْا
لِلْمُشْرِكِیْنَ
وَلَوْ
كَانُوْۤا
اُولِیْ
قُرْبٰی
مِنْ
بَعْدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَهُمْ
اَنَّهُمْ
اَصْحٰبُ
الْجَحِیْمِ
۟
نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ اُن کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان پر یہ بات کھُل چکی ہے کہ وہ جہنّم کے مستحق ہیں۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ