لَنْ
یَّسْتَنْكِفَ
الْمَسِیْحُ
اَنْ
یَّكُوْنَ
عَبْدًا
لِّلّٰهِ
وَلَا
الْمَلٰٓىِٕكَةُ
الْمُقَرَّبُوْنَ ؕ
وَمَنْ
یَّسْتَنْكِفْ
عَنْ
عِبَادَتِهٖ
وَیَسْتَكْبِرْ
فَسَیَحْشُرُهُمْ
اِلَیْهِ
جَمِیْعًا
۟
Maseeh ne kabhi is baat ko aar (disdain) nahin samjha ke woh Allah ka banda ho, aur na muqarrab-tareen farishtey isko apne liye aar (disdain) samajhte hain. Agar koi Allah ki bandagi ko apne liye aar samajhta hai aur taqabbur karta hai to ek waqt aayega jab Allah sabko gher kar apne saamne haazir karega
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسان
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان