النساء 4:173 فاما الذين امنوا وعملوا الصالحات فيوفيهم اجورهم ويزيدهم من فضله واما الذين استنكفوا واستكبروا فيعذبهم عذابا اليما ولا يجدون لهم من دون الله وليا ولا نصيرا ١٧٣
فَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
فَیُوَفِّیْهِمْ
اُجُوْرَهُمْ
وَیَزِیْدُهُمْ
مِّنْ
فَضْلِهٖ ۚ
وَاَمَّا
الَّذِیْنَ
اسْتَنْكَفُوْا
وَاسْتَكْبَرُوْا
فَیُعَذِّبُهُمْ
عَذَابًا
اَلِیْمًا ۙ۬
وَّلَا
یَجِدُوْنَ
لَهُمْ
مِّنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
وَلِیًّا
وَّلَا
نَصِیْرًا
۟
پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو ان کو تو ان کا پورا پورا اجر بھی دے گا اور انہیں مزید بھی دے گا اپنے خاص فضل میں سے اور جنہوں نے (عبدیت کے اندر) عار محسوس کی تھی اور تکبر کیا تھا تو ان کو وہ درد ناک عذاب دے گا اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسان
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان