النمل 27:86 الم يروا انا جعلنا الليل ليسكنوا فيه والنهار مبصرا ان في ذالك لايات لقوم يومنون ٨٦
اَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّا
جَعَلْنَا
الَّیْلَ
لِیَسْكُنُوْا
فِیْهِ
وَالنَّهَارَ
مُبْصِرًا ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّقَوْمٍ
یُّؤْمِنُوْنَ
۟
کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟1 اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دابتہ الارض ٭٭…
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہو گا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہو گی تاکہ ان کی ذلت وحقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» [37-الصافات:
دابتہ الارض ٭٭…
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہو گا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہو گی تاکہ ان کی ذلت وحقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمان