القصص 28:9 وقالت امرات فرعون قرت عين لي ولك لا تقتلوه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وهم لا يشعرون ٩
وَقَالَتِ
امْرَاَتُ
فِرْعَوْنَ
قُرَّتُ
عَیْنٍ
لِّیْ
وَلَكَ ؕ
لَا
تَقْتُلُوْهُ ۖۗ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا
وَّهُمْ
لَا
یَشْعُرُوْنَ
۟
Firoun ki biwi ne (ussey) kaha “yeh mere aur tere liye aankhon ki thandak hai, isey qatal na karo, kya ajab ke yeh hamare liye mufeed saabit ho, ya hum isey beta hi bana lein.” Aur woh (anjaam se) bekhabar thay
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کا