القصص 28:7 واوحينا الى ام موسى ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه في اليم ولا تخافي ولا تحزني انا رادوه اليك وجاعلوه من المرسلين ٧
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰۤی
اُمِّ
مُوْسٰۤی
اَنْ
اَرْضِعِیْهِ ۚ
فَاِذَا
خِفْتِ
عَلَیْهِ
فَاَلْقِیْهِ
فِی
الْیَمِّ
وَلَا
تَخَافِیْ
وَلَا
تَحْزَنِیْ ۚ
اِنَّا
رَآدُّوْهُ
اِلَیْكِ
وَجَاعِلُوْهُ
مِنَ
الْمُرْسَلِیْنَ
۟
اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی والدہ کو کہ تم اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ خوف کھانا اور نہ رنجیدہ ہونا ہم اسے لوٹانے والے ہیں تمہاری طرف اور اسے بنانے والے ہیں رسولوں میں سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کا