القصص 28:8 فالتقطه ال فرعون ليكون لهم عدوا وحزنا ان فرعون وهامان وجنودهما كانوا خاطيين ٨
فَالْتَقَطَهٗۤ
اٰلُ
فِرْعَوْنَ
لِیَكُوْنَ
لَهُمْ
عَدُوًّا
وَّحَزَنًا ؕ
اِنَّ
فِرْعَوْنَ
وَهَامٰنَ
وَجُنُوْدَهُمَا
كَانُوْا
خٰطِـِٕیْنَ
۟
تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسر
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭…
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کا