القصص 28:37 وقال موسى ربي اعلم بمن جاء بالهدى من عنده ومن تكون له عاقبة الدار انه لا يفلح الظالمون ٣٧
وَقَالَ
مُوْسٰی
رَبِّیْۤ
اَعْلَمُ
بِمَنْ
جَآءَ
بِالْهُدٰی
مِنْ
عِنْدِهٖ
وَمَنْ
تَكُوْنُ
لَهٗ
عَاقِبَةُ
الدَّارِ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یُفْلِحُ
الظّٰلِمُوْنَ
۟
موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہ
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭…
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت