القصص 28:28 قال ذالك بيني وبينك ايما الاجلين قضيت فلا عدوان علي والله على ما نقول وكيل ٢٨
قَالَ
ذٰلِكَ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَكَ ؕ
اَیَّمَا
الْاَجَلَیْنِ
قَضَیْتُ
فَلَا
عُدْوَانَ
عَلَیَّ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟۠
موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔ باپ نے دیکھا کہ آج وقت سے پہلے یہ آگئیں ہیں تو دریافت فرمایا کہ ”آج کیا بات ہے؟“ انہوں نے سچا واقعہ کہہ سنایا۔ آپ نے اسی وقت ان دونوں میں سے ایک کو بھ
موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کا معاہدہ ٭٭…
ان دونوں بچیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ علیہ السلام نے پانی پلا دیا تو یہ اپنی بکریاں لے کر واپس اپنے گھر گئیں۔