الممتحنة 60:12 يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك على ان لا يشركن بالله شييا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن اولادهن ولا ياتين ببهتان يفترينه بين ايديهن وارجلهن ولا يعصينك في معروف فبايعهن واستغفر لهن الله ان الله غفور رحيم ١٢
یٰۤاَیُّهَا
النَّبِیُّ
اِذَا
جَآءَكَ
الْمُؤْمِنٰتُ
یُبَایِعْنَكَ
عَلٰۤی
اَنْ
لَّا
یُشْرِكْنَ
بِاللّٰهِ
شَیْـًٔا
وَّلَا
یَسْرِقْنَ
وَلَا
یَزْنِیْنَ
وَلَا
یَقْتُلْنَ
اَوْلَادَهُنَّ
وَلَا
یَاْتِیْنَ
بِبُهْتَانٍ
یَّفْتَرِیْنَهٗ
بَیْنَ
اَیْدِیْهِنَّ
وَاَرْجُلِهِنَّ
وَلَا
یَعْصِیْنَكَ
فِیْ
مَعْرُوْفٍ
فَبَایِعْهُنَّ
وَاسْتَغْفِرْ
لَهُنَّ
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اے نبی ﷺ جب آپ کے پاس آئیں مومن خواتین آپ سے بیعت کرنے کے لیے اس بات پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ کوئی بہتان باندھیں گی جو ان کے ہاتھوں اور پائوں کے مابین سے ہو تو (اے نبی ﷺ آپ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے و الا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھیں ان کا امتحان اسی آیت سے ہوتا تھا، جو عورت ان تمام باتوں کا اقرار کر لیتی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زبانی فرما دیتے کہ میں نے تم سے بیعت کی ی
خواتین کا طریقہ بیعت ٭٭…
صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو مسلمان عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتی تھی