الإسراء 17:25 ربكم اعلم بما في نفوسكم ان تكونوا صالحين فانه كان للاوابين غفورا ٢٥
رَبُّكُمْ
اَعْلَمُ
بِمَا
فِیْ
نُفُوْسِكُمْ ؕ
اِنْ
تَكُوْنُوْا
صٰلِحِیْنَ
فَاِنَّهٗ
كَانَ
لِلْاَوَّابِیْنَ
غَفُوْرًا
۟
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گناہ اور استغفار ٭٭…
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں، چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے، جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔
کہتے ہیں
گناہ اور استغفار ٭٭…
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں س