مَنِ
اهْتَدٰی
فَاِنَّمَا
یَهْتَدِیْ
لِنَفْسِهٖ ۚ
وَمَنْ
ضَلَّ
فَاِنَّمَا
یَضِلُّ
عَلَیْهَا ؕ
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَةٌ
وِّزْرَ
اُخْرٰی ؕ
وَمَا
كُنَّا
مُعَذِّبِیْنَ
حَتّٰی
نَبْعَثَ
رَسُوْلًا
۟
جس کسی نے ہدایت کی راہ اختیار کی تو اس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے ہدایت کی راہ اختیار کی اور جو کوئی گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں ٭٭…
جس نے راہ راست اختیار کی، حق کی اتباع کی، نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ سے پھرا اس کا وبال اسی پر ہے کوئی کسی کے گناہ میں پکڑا نہ جائے گا ہر ایک کا عمل اسی کے ساتھ ہے۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَ
اچھے یا برے اعمال انسان کے اپنے لئے ہیں ٭٭…
جس نے راہ راست اختیار کی، حق کی اتباع کی، نبوت کی مانی اس کے اپنے حق میں اچھائی ہے اور جو حق سے ہٹا صحیح راہ