الحجرات 49:9 وان طايفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينهما فان بغت احداهما على الاخرى فقاتلوا التي تبغي حتى تفيء الى امر الله فان فاءت فاصلحوا بينهما بالعدل واقسطوا ان الله يحب المقسطين ٩
وَاِنْ
طَآىِٕفَتٰنِ
مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
اقْتَتَلُوْا
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا ۚ
فَاِنْ
بَغَتْ
اِحْدٰىهُمَا
عَلَی
الْاُخْرٰی
فَقَاتِلُوا
الَّتِیْ
تَبْغِیْ
حَتّٰی
تَفِیْٓءَ
اِلٰۤی
اَمْرِ
اللّٰهِ ۚ
فَاِنْ
فَآءَتْ
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا
بِالْعَدْلِ
وَاَقْسِطُوْا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُقْسِطِیْنَ
۟
اور اگر اہل ِایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کر رہا ہو تو تم جنگ کرو اس کے ساتھ جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف } پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو عدل کے ساتھ اور دیکھو ! انصاف کرنا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭…
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انس
دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭…
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو