الحجرات 49:11 يا ايها الذين امنوا لا يسخر قوم من قوم عسى ان يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى ان يكن خيرا منهن ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب بيس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فاولايك هم الظالمون ١١
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
یَسْخَرْ
قَوْمٌ
مِّنْ
قَوْمٍ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّكُوْنُوْا
خَیْرًا
مِّنْهُمْ
وَلَا
نِسَآءٌ
مِّنْ
نِّسَآءٍ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّكُنَّ
خَیْرًا
مِّنْهُنَّ ۚ
وَلَا
تَلْمِزُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ
وَلَا
تَنَابَزُوْا
بِالْاَلْقَابِ ؕ
بِئْسَ
الِاسْمُ
الْفُسُوْقُ
بَعْدَ
الْاِیْمَانِ ۚ
وَمَنْ
لَّمْ
یَتُبْ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الظّٰلِمُوْنَ
۟
1اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔2 آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو3 اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔4 ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔5 جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے ۔ [صحیح مسلم:91]
اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ ” جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا
ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لی