وَالَّذِیْنَ
تَبَوَّؤُ
الدَّارَ
وَالْاِیْمَانَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
یُحِبُّوْنَ
مَنْ
هَاجَرَ
اِلَیْهِمْ
وَلَا
یَجِدُوْنَ
فِیْ
صُدُوْرِهِمْ
حَاجَةً
مِّمَّاۤ
اُوْتُوْا
وَیُؤْثِرُوْنَ
عَلٰۤی
اَنْفُسِهِمْ
وَلَوْ
كَانَ
بِهِمْ
خَصَاصَةٌ ۫ؕ
وَمَنْ
یُّوْقَ
شُحَّ
نَفْسِهٖ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
۟ۚ
اور جولوگ پہلے سے مدینہ میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اورایمان استوار کيے ہوئے ہیں ، جو ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں اوروہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتےجو مہاجرین کودیاجاتا ہے اوروہ ان کواپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو اورجوشخص اپنے جی کے لالچ سے بچالیاگیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مال کسے دیں گے؟ اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس کے حقدار وہ غریب مہاجر ہیں، جنہوں نے اللہ کو ر
مال فے کے حقدار ٭٭…
اوپر بیان ہوا تھا کہ «فے» کا مال یعنی کافروں کا جو مال مسلمانوں کے قبضے میں میدان جنگ میں لڑے بھڑے بغیر آ گیا ہو اس کے مالک رسول ا