اَفَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَتَكُوْنَ
لَهُمْ
قُلُوْبٌ
یَّعْقِلُوْنَ
بِهَاۤ
اَوْ
اٰذَانٌ
یَّسْمَعُوْنَ
بِهَا ۚ
فَاِنَّهَا
لَا
تَعْمَی
الْاَبْصَارُ
وَلٰكِنْ
تَعْمَی
الْقُلُوْبُ
الَّتِیْ
فِی
الصُّدُوْرِ
۟
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے کیوں کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی
باب…
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھ