الحج 22:45 فكاين من قرية اهلكناها وهي ظالمة فهي خاوية على عروشها وبير معطلة وقصر مشيد ٤٥
فَكَاَیِّنْ
مِّنْ
قَرْیَةٍ
اَهْلَكْنٰهَا
وَهِیَ
ظَالِمَةٌ
فَهِیَ
خَاوِیَةٌ
عَلٰی
عُرُوْشِهَا
وَبِئْرٍ
مُّعَطَّلَةٍ
وَّقَصْرٍ
مَّشِیْدٍ
۟
اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور وہ ظالم تھیں تو وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے ہی ناکارہ کنویں (بند پڑے ہیں) اور کتنے ہی مضبوط بنائے ہوئے محل (بھی ویران پڑے ہیں)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے ت
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وسلم ک