الحج 22:47 ويستعجلونك بالعذاب ولن يخلف الله وعده وان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون ٤٧
وَیَسْتَعْجِلُوْنَكَ
بِالْعَذَابِ
وَلَنْ
یُّخْلِفَ
اللّٰهُ
وَعْدَهٗ ؕ
وَاِنَّ
یَوْمًا
عِنْدَ
رَبِّكَ
كَاَلْفِ
سَنَةٍ
مِّمَّا
تَعُدُّوْنَ
۟
اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ عذاب کے بارے میں آپ سے جلدی مچا رہے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا اور یقیناً ایک دن آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کی طرح ہے اس حساب سے جو گنتی تم کرتے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ” یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے “۔
ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ” یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن