الحج 22:46 افلم يسيروا في الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها او اذان يسمعون بها فانها لا تعمى الابصار ولاكن تعمى القلوب التي في الصدور ٤٦
اَفَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَتَكُوْنَ
لَهُمْ
قُلُوْبٌ
یَّعْقِلُوْنَ
بِهَاۤ
اَوْ
اٰذَانٌ
یَّسْمَعُوْنَ
بِهَا ۚ
فَاِنَّهَا
لَا
تَعْمَی
الْاَبْصَارُ
وَلٰكِنْ
تَعْمَی
الْقُلُوْبُ
الَّتِیْ
فِی
الصُّدُوْرِ
۟
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ 1
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی
باب…
پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھ