الحج 22:11 ومن الناس من يعبد الله على حرف فان اصابه خير اطمان به وان اصابته فتنة انقلب على وجهه خسر الدنيا والاخرة ذالك هو الخسران المبين ١١
وَمِنَ
النَّاسِ
مَنْ
یَّعْبُدُ
اللّٰهَ
عَلٰی
حَرْفٍ ۚ
فَاِنْ
اَصَابَهٗ
خَیْرُ
طْمَاَنَّ
بِهٖ ۚ
وَاِنْ
اَصَابَتْهُ
فِتْنَةُ
نْقَلَبَ
عَلٰی
وَجْهِهٖ ۚ۫
خَسِرَ
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةَ ؕ
ذٰلِكَ
هُوَ
الْخُسْرَانُ
الْمُبِیْنُ
۟
اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شک کے مارے لوگ ٭٭…
«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئ
شک کے مارے لوگ ٭٭…
«حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ ک