یَوْمَ
یَقُوْلُ
الْمُنٰفِقُوْنَ
وَالْمُنٰفِقٰتُ
لِلَّذِیْنَ
اٰمَنُوا
انْظُرُوْنَا
نَقْتَبِسْ
مِنْ
نُّوْرِكُمْ ۚ
قِیْلَ
ارْجِعُوْا
وَرَآءَكُمْ
فَالْتَمِسُوْا
نُوْرًا ؕ
فَضُرِبَ
بَیْنَهُمْ
بِسُوْرٍ
لَّهٗ
بَابٌ ؕ
بَاطِنُهٗ
فِیْهِ
الرَّحْمَةُ
وَظَاهِرُهٗ
مِنْ
قِبَلِهِ
الْعَذَابُ
۟ؕ
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہمیں موقع دو کہ ہم بھی تمھاری روشنی سے کچھ فائدہ اٹھالیں کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ،پھر روشنی تلاش کروپھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگااس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭…
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد
اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ٭٭…
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔
سی