الفجر 89:16 واما اذا ما ابتلاه فقدر عليه رزقه فيقول ربي اهانن ١٦
وَاَمَّاۤ
اِذَا
مَا
ابْتَلٰىهُ
فَقَدَرَ
عَلَیْهِ
رِزْقَهٗ ۙ۬
فَیَقُوْلُ
رَبِّیْۤ
اَهَانَنِ
۟ۚ
اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا “۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا ي
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلک