البقرة 2:76 واذا لقوا الذين امنوا قالوا امنا واذا خلا بعضهم الى بعض قالوا اتحدثونهم بما فتح الله عليكم ليحاجوكم به عند ربكم افلا تعقلون ٧٦
وَاِذَا
لَقُوا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
قَالُوْۤا
اٰمَنَّا ۖۚ
وَاِذَا
خَلَا
بَعْضُهُمْ
اِلٰی
بَعْضٍ
قَالُوْۤا
اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ
بِمَا
فَتَحَ
اللّٰهُ
عَلَیْكُمْ
لِیُحَآجُّوْكُمْ
بِهٖ
عِنْدَ
رَبِّكُمْ ؕ
اَفَلَا
تَعْقِلُوْنَ
۟
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭…
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لیے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحر
یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭…
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم