البقرة 2:71 قال انه يقول انها بقرة لا ذلول تثير الارض ولا تسقي الحرث مسلمة لا شية فيها قالوا الان جيت بالحق فذبحوها وما كادوا يفعلون ٧١
قَالَ
اِنَّهٗ
یَقُوْلُ
اِنَّهَا
بَقَرَةٌ
لَّا
ذَلُوْلٌ
تُثِیْرُ
الْاَرْضَ
وَلَا
تَسْقِی
الْحَرْثَ ۚ
مُسَلَّمَةٌ
لَّا
شِیَةَ
فِیْهَا ؕ
قَالُوا
الْـٰٔنَ
جِئْتَ
بِالْحَقِّ ؕ
فَذَبَحُوْهَا
وَمَا
كَادُوْا
یَفْعَلُوْنَ
۟۠
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ! اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے ، نہ پانی کھینچتی ہے ، صحیح سالم اور بےداغ ہے ، اس پر وہ پکار اٹھے کے ہاں ، اب تم نے ٹھیک بتایا ہے ۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور باربار سوال کرنے لگے۔
ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں