البقرة 2:42 ولا تلبسوا الحق بالباطل وتكتموا الحق وانتم تعلمون ٤٢
وَلَا
تَلْبِسُوا
الْحَقَّ
بِالْبَاطِلِ
وَتَكْتُمُوا
الْحَقَّ
وَاَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟
باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناوٴاور نہ جانتے بوجھتےحق کو چھپانے کی کوشش کرو۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بدخو یہودی ٭٭…
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہیہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپا لیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہٰذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہد
بدخو یہودی ٭٭…
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہیہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کر دیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپا