البقرة 2:29 هو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا ثم استوى الى السماء فسواهن سبع سماوات وهو بكل شيء عليم ٢٩
هُوَ
الَّذِیْ
خَلَقَ
لَكُمْ
مَّا
فِی
الْاَرْضِ
جَمِیْعًا ۗ
ثُمَّ
اسْتَوٰۤی
اِلَی
السَّمَآءِ
فَسَوّٰىهُنَّ
سَبْعَ
سَمٰوٰتٍ ؕ
وَهُوَ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمٌ
۟۠
وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان1 استوار کیے۔اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کچھ اور دلائل ٭٭…
اوپر کی آیات میں ان دلائل قدرت کا بیان تھا جو خود انسان کے اندر ہیں اب اس مبارک آیت میں ان دلائل کا بیان ہو رہا ہے جو روز مرہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ «اسْتَوَىٰ» یہاں قصد کرنے اور متوجہ ہونے کے معنی میں ہے اس لیے کہ اس کا صلہ «الی» ہے «سَوَّاهُنَّ» کے معنی درست کرنے اور ساتوں آسما
کچھ اور دلائل ٭٭…
اوپر کی آیات میں ان دلائل قدرت کا بیان تھا جو خود انسان کے اندر ہیں اب اس مبارک آیت میں ان دلائل کا بیان ہو رہا ہے جو روز مرہ آنکھوں ک