الأعراف 7:95 ثم بدلنا مكان السيية الحسنة حتى عفوا وقالوا قد مس اباءنا الضراء والسراء فاخذناهم بغتة وهم لا يشعرون ٩٥
ثُمَّ
بَدَّلْنَا
مَكَانَ
السَّیِّئَةِ
الْحَسَنَةَ
حَتّٰی
عَفَوْا
وَّقَالُوْا
قَدْ
مَسَّ
اٰبَآءَنَا
الضَّرَّآءُ
وَالسَّرَّآءُ
فَاَخَذْنٰهُمْ
بَغْتَةً
وَّهُمْ
لَا
یَشْعُرُوْنَ
۟
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ادوار ماضی ٭٭…
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی وغیرہ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں، مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے ا
ادوار ماضی ٭٭…
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی و