وَجٰوَزْنَا
بِبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
الْبَحْرَ
فَاَتَوْا
عَلٰی
قَوْمٍ
یَّعْكُفُوْنَ
عَلٰۤی
اَصْنَامٍ
لَّهُمْ ۚ
قَالُوْا
یٰمُوْسَی
اجْعَلْ
لَّنَاۤ
اِلٰهًا
كَمَا
لَهُمْ
اٰلِهَةٌ ؕ
قَالَ
اِنَّكُمْ
قَوْمٌ
تَجْهَلُوْنَ
۟
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا پھر ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے بتوں كو پوجنے میں لگے هوئے تھے انھوں نے کہا اے موسیٰ، ہماری عبادت کے ليے بھی ایک بت بنادے جیسے ان کے بت ہیں موسیٰ نے کہا، تم بڑے جاہل لوگ ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شوق بت پرستی ٭٭…
اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔
شوق بت پرستی ٭٭…
اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں ب