الأنفال 8:33 وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون ٣٣
وَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیُعَذِّبَهُمْ
وَاَنْتَ
فِیْهِمْ ؕ
وَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
مُعَذِّبَهُمْ
وَهُمْ
یَسْتَغْفِرُوْنَ
۟
اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تُو ان کے درمیان موجود تھا۔ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ اُن کو عذاب دیدے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ ” جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہدیں۔ حالانکہ وہ
عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار ٭٭…
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور و تکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت