یَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ
الْاَنْفَالِ ؕ
قُلِ
الْاَنْفَالُ
لِلّٰهِ
وَالرَّسُوْلِ ۚ
فَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاَصْلِحُوْا
ذَاتَ
بَیْنِكُمْ ۪
وَاَطِیْعُوا
اللّٰهَ
وَرَسُوْلَهٗۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ
۟
وہ تم سے انفال (مال غنیمت) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے ہیں پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
بخاری شریف میں ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورۃ الانفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4645] فرماتے ہیں انفال سے مراد غنیمتیں ہیں۔ [صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ الانفال باب:1] جو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھیں ان میں سے کوئی چیز کسی اور کیلئے نہ ت
بخاری شریف میں ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورۃ الانفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4645] فرماتے ہیں انفال سے مراد غن