الأنفال 8:4 اولايك هم المومنون حقا لهم درجات عند ربهم ومغفرة ورزق كريم ٤
اُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُؤْمِنُوْنَ
حَقًّا ؕ
لَهُمْ
دَرَجٰتٌ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ
وَمَغْفِرَةٌ
وَّرِزْقٌ
كَرِیْمٌ
۟ۚ
یہی لوگ ہیں جو حقیقی مؤمن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس (اونچے) درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔
یہاں سے اب غزوۂ بدر کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وق