الأنعام 6:161 قل انني هداني ربي الى صراط مستقيم دينا قيما ملة ابراهيم حنيفا وما كان من المشركين ١٦١
قُلْ
اِنَّنِیْ
هَدٰىنِیْ
رَبِّیْۤ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ ۚ۬
دِیْنًا
قِیَمًا
مِّلَّةَ
اِبْرٰهِیْمَ
حَنِیْفًا ۚ
وَمَا
كَانَ
مِنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
۟
اے محمد ؐ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم ؑ کا طریقہ1 جسے یکسُو ہوکر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بے وقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ٭٭…
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے “ -
«و
بے وقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ٭٭…
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا