وَجَعَلُوْا
لِلّٰهِ
مِمَّا
ذَرَاَ
مِنَ
الْحَرْثِ
وَالْاَنْعَامِ
نَصِیْبًا
فَقَالُوْا
هٰذَا
لِلّٰهِ
بِزَعْمِهِمْ
وَهٰذَا
لِشُرَكَآىِٕنَا ۚ
فَمَا
كَانَ
لِشُرَكَآىِٕهِمْ
فَلَا
یَصِلُ
اِلَی
اللّٰهِ ۚ
وَمَا
كَانَ
لِلّٰهِ
فَهُوَ
یَصِلُ
اِلٰی
شُرَكَآىِٕهِمْ ؕ
سَآءَ
مَا
یَحْكُمُوْنَ
۟
اور خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کيے، اس میں سے انھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے پس وہ کہتے ہیں کہ یہ حصّہ اللہ کا ہے، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے ليے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
ہدعت کا آغاز ٭٭…
مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ” ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے
ہدعت کا آغاز ٭٭…
مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ” ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذران